ابنا: مذہبی رہنماوٴں نے حکومت کو متنبہ کیاہے کہ توہین رسالت قانون میں تبدیلی کی گئی تو ملک میں خانہ جنگی ہوجائے گی لہٰذا حکومت ایسی کسی بھی ممکنہ کوشش سے بازرہے۔توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کے واقعے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہاہے کہ سزامعاف کرنے کا اختیارصدرمملکت کو نہیں ہونا چاہئے جبکہ دیگر علماء کرام نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی شریعت اورمذہب میں اجازت نہیں۔حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قانون پر صحیح طریقے سے عملدرآمد کے لیے عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ جیونیوز سے گفتگو میں جامعہ رحمانیہ کے مہتمم مولانا امجد خان کا کہنا تھا کہ شریعت اور دین توہین رسالت(ص) کے قانون کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔ انسانی حقوق کے کارکن حسین تقی نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا اور ماتحت عدالت کو ہدایت دی جانی چاہئے تھی کہ جب تک اس کیس کی باقاعدہ تفتیش نہیں ہوتی اور حقائق سامنے نہیں آتے اس وقت تک کیس رجسٹر نہیں کرنا چاہئے۔ جے یو پی کے رہنما قاری زمان بہادر کا کہنا تھا کہ لوگ ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے بھی اس قانون کا استعمال کرتے ہیں جس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ لوگ دشمنی کی بناء پر اس قانون کا استعمال کرتے ہیں اور توہین رسالت(ص) کا الزام لگاکر تھانوں میں رپورٹ درج کرادیتے ہیں۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ سزا کو معاف کرنے کا اختیار صدر کو نہیں ہونا چاہئے، مجرم ہونے اور نہ ہونے کا اختیار عدالتوں کا ہے صدر کا نہیں۔ مثلاً اگر کسی نے کسی کو قتل کیا ہے تو قاتل سے قصاص لینے کا حق مقتول کے ورثاء کو ہے اور معاف کرنے کا حق بھی ان ہی کو ہے، صدر مملکت کو ن ہیں؟ قانون تحفظ ناموس رسالت کے تحت اگر کسی پر الزام لگا ہے تو اس کی ایف آئی آر کاٹی جائے اور اسے ڈائریکٹ فیڈرل شریعت کورٹ میں ٹرائل کیا جائے۔ اگر وہ بے قصور ہے تو بری ہوجائے گا اور اگر قصور وار ہے توعدالت سے اسے سزا ملے گی اور کسی کو اعتراض کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ۔۔۔۔۔/110
20 نومبر 2010 - 20:30
News ID: 214084
توہین رسالت قانون میں تبدیلی کی گئی توخانہ جنگی ہوجائیگی۔